افغانستان کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں پاکستانی فورسز کا آپریشن غضب للحق جاری ہے جس میں اب تک 133 طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صبح 5 بجے ایکس پر ٹویٹ کیا تھا کہ ہم نے ائیر سٹرائیک کے بعد دوبارہ جنگ شروع کردی ہےاور اب اپنا ہی ٹویٹ ڈیلیٹ کرکے اب فرار ہوچکا ہے۔
ٹویٹ میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے کابل،قندھار اور دوسرے صوبوں میں ایئرسٹرائیکس کی ہیں جس کے جواب میں ہم نے سرحد پر دوبارہ کارروائی شروع کردی ہے۔
پاک فوج کی جانب سے کارروائی جاری رکھنے پر شکست سے دوچار افغان طالبان کے ترجمان نے ٹویٹ ڈیلیٹ کرکے فرار کو ہی بہتر سمجھا اور غاروں میں گھس گیا ۔
پاک فوج کی جانب سے تباہ کن حملوں کے بعددھمکیاں دینے والی طالبان قیادت غاروں میں پناہ لینے پر مجبور جبکہ پاک فوج نے دہشتگردوں کے ٹھکانے مکمل ختم کرکے کا تہیہ کرلیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر جاری منظم پروپیگنڈے کو اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب بین الاقوامی نشریاتی ادارے “اسکائی نیوز” نے اپنی ایک من گھڑت اور مضحکہ خیز رپورٹ کو عوامی دباؤ اور حقائق سامنے آنے کے بعد ڈیلیٹ کر دیا۔
اسکائی نیوز نے پہلے اپنے آفیشل ہینڈل سے ٹویٹ کیا اور پھر ایک رپورٹ نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان پر “فضائی حملہ” کیا گیا ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا پر حقائق سامنے آنے اور دفاعی ماہرین کی جانب سے سخت تنقید کے بعد اسکائی نیوز کو اپنی یہ جھوٹی اسٹوری اور ٹویٹ ہٹانی پڑی۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کے پاس کوئی فعال ایئر فورس موجود ہی نہیں ہے، ایسے میں فضائی حملے کا دعویٰ کرنا اسکائی نیوز کی پیشہ ورانہ نااہلی اور پاکستان کے خلاف بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکائی نیوز پاکستان دشمنی میں اتنا اندھا ہو گیا کہ وہ بنیادی زمینی حقائق بھی بھول گیا کہ جس ملک کے پاس لڑاکا طیارے ہی نہیں وہ فضائی حملہ کیسے کر سکتا ہے۔
اسکائی نیوز کی جانب سے رپورٹ ڈیلیٹ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خبر محض بھارتی ایجنڈے کو فروغ دینے اور پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے گھڑی گئی تھی، جو کہ اب بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔