سینیٹ میں افغانستان کی دراندازی کےخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

سینیٹ میں افغانستان کی دراندازی کےخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

سینیٹ میں افغانستان کی طرف سے پاکستان میں دراندازی کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

یہ  قرارداد پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پیش کی ، پیش کی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ  پاکستان پر افغان طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا، ایوان افغان جارجیت کی مذمت کرتا ہے، یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی قوم کے وقار اور خودمختاری کے اصول پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب متناسب اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔

قرارداد میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ افواجِ پاکستان ہر دور میں وطن کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 40 سال لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، گڈ ول کے بجائے افغانستان ہر وقت مخالف اقدامات کرتا ہے، افغان رجیم فوری جنگ بندی کرے اور بین الاقوامی برادری اس کا نوٹس لے۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان نے حملہ کرکے بھیانک غلطی کی، سنگین نتائج بھگتنا پڑینگے ، وزیرداخلہ محسن نقوی

پاکستان نے اپنے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور خطے میں استحکام کے فروغ کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور عالمی برادری افغانستان کے غیر سنجیدہ رویے کا فوری نوٹس لے۔

سینیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی دفاع کے لیے متحد کھڑا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق جاری ہے، فضائیہ اور بری افواج کے حملوں میں 133  افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے ۔

پاکستان نے افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا،  قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں 2 شوال کے مقابل جبکہ 2 انگور اڈا کے مقابل اور 1 زرملان کے مقابل ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *