پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف بھرپور کارروائی جاری، دشمن کو بھاری نقصان کا سامنا

پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف بھرپور کارروائی جاری، دشمن کو بھاری نقصان کا سامنا

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور کارروائی جاری ہے ۔

سیکیورٹی فورسزافغان طالبان فوج  کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو  نشانہ بنا رہی ہیں جس کے نتیجے میں افغان طالبان  فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف کارروائی میں افغان چارلی پوسٹ اور افغان بابری پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی ایک کارروائی میں افغان بارڈر ٹرمینل پوسٹ اور وارسک سیکٹرمیں افغان پوسٹ کو بھاری نقصان کاسامنا کرنا پڑا ۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر کارروائی کے دوران پاک افغان سرحد پرافغان طالبان کی  مانو جبہ پوسٹ کو بھی بھاری نقصان پہنچا   ہے ۔

افغان طالبان  شدید بوکھلاہٹ کا شکار،گاڑی چھوڑ کر فرار

پاکستان سیکیورٹی فورسز کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی سے افغان طالبان  شدید بوکھلاہٹ کا شکار،گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے افغان طالبان کی گاڑی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کا افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپورجواب، قندھار میں کور ہیڈکوارٹرز تباہ

واضح رہے کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلااشتعال کارروائی کے جواب میں آپریشن غضب للحق جاری ہے، فضائیہ اور بری افواج کے حملوں میں 133  افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ 27 افغان چوکیاں مکمل تباہ اور 9 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا۔

پاکستان نے افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں 2 شوال کے مقابل جبکہ 2 انگور اڈا کے مقابل اور 1 زرملان کے مقابل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت اور کسی بھی  جارحیت کیخلاف سخت اور فوری جواب دینے  کیلئے مکمل طور پر  تیار ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *