امریکا کیجانب سے ایران کیخلاف حملے میں کونسی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی؟

امریکا کیجانب سے  ایران کیخلاف حملے میں کونسی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی؟

جنگی حکمتِ عملی میں آلات حرب کے ساتھ ساتھ اب مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ ہوگیا ،  امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اسٹارٹ اپ کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاؤڈ کا استعمال کیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگانے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹ کام نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی میں انٹیلی جنس تجزیے، اہداف کی شناخت اور جنگی منظر ناموں کی مشق جیسے اہم کاموں کے لیے اے آئی کلاؤڈ کا استعمال جاری رکھا ، حالانکہ حکومت نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگا رکھی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو اینتھروپک کی اے آئی خدمات استعمال نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ کمپنی نے پینٹاگون کو اپنے اے آئی ماڈل کے بھرپور فوجی استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آگئی ، سروے

کمپنی نے پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر پابندی غیر قانونی ہو گی، جبکہ دفاعی حکام کلاؤڈ کے متبادل اے آئی سسٹمز کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مکمل تبدیلی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

ینتھروپک کے اے آئی ٹولز کو پہلے بھی دیگر حساس فوجی آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جس میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں اے آئی کا استعمال کس حد تک بڑھ گیا ہے اور سیاسی، اخلاقی و قانونی تنازعات بھی اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔

واضح  رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے تھے جن میں 200 سے زائد ایرانی شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جبکہ اگلے روزایرانی سرکاری میڈیا نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کی ، ان حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی شہید ہوئے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *