ایران کے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلان کے بعد امریکا کے بی 2 بمبار طیارے ایران کی جانب روانہ ہوگئے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) نے کہا کہ بی 2 بمبار طیارے روانہ کرنے کا مقصد طویل فاصلے سے حملہ کرکے نہ صرف ایرانی حکومت سے لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں اس کی دوبارہ طاقت بحال کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کرنا ہے۔
دریں اثنا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ کی درخواست پر کیا جا رہا ہے، یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے اقدامات کر رہا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل ‘‘ کے مطابق یہ فوجی کمک ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب خلیج ہرمز میں ایرانی حملوں نے اس تزویراتی بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کو متاثر کیا ہے جس سے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں میں خلل پڑا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے فوجی و سیاسی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا کیمطابق سی تناظر میں دو امریکی حکام نے بتایا کہ 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ ، جو 3 بحری جہازوں پر مشتمل ہے اور جس میں تقریباً 2200 اہلکار شامل ہیں، کو مشرق وسطیٰ جانے کے احکامات ملے ہیں ، یہ یونٹ مستقل طور پر جاپان میں تعینات رہتا ہے اور عام طور پر ہند-بحرالکاہل کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں نے بڑے پیمانے پر بیس فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، اسلحہ کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے والے مقامات کو ہدف بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام “تھاڈ” کو اسرائیل منتقل کر دیا تاکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے سائے میں ہوئی ہے جہاں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے رہنماؤں نے اپنے تازہ بیانات میں مزید چیلنجز اور لڑائی جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے اور مالیاتی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جنگ کے تیسرے ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایرانی فوجی ٹھکانوں بشمول میزائل تنصیبات اور فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں تاکہ تہران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے جبکہ ایران نے جواباً میزائل داغے ہیں۔