برطانوی وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ملک کا سرکاری موقف واضح کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ برطانوی افواج کسی بھی صورت ایران میں امریکی زمینی حملے کا حصہ نہیں بنیں گی۔
جنگ سے لاتعلقی کا اظہار
ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’ایران جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم خود کو اس تنازع میں نہیں الجھائیں گے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ نے اب تک جو بھی کارروائیاں کی ہیں وہ خالصتاً ‘دفاعی اقدام’ کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ تحفظ ہے۔
فوجی آپریشن اور فضائی حدود کی نگرانی
فوجی آپریشن اور فضائی حدود کی نگرانی سے متعلق برطانوی وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ جنگ کے باقاعدہ آغاز کے محض 1 یا 2 گھنٹے بعد ہی برطانوی پائلٹس کو فضا میں تعینات کر دیا گیا تھا۔
اس فوری اقدام کا مقصد برطانیہ کے شہریوں، قومی مفادات اور خطے میں موجود اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ دفاعی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ خطے میں برطانوی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی تجارت
عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے تجارتی راستے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے اور وہاں جہاز رانی کی بحالی کے لیے بھرپور کام کرتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ برطانوی بحریہ اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
قومی مفادات اور اندرونی اثرات
برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی تمام تر توجہ برطانیہ کے قومی مفادات اور خطے میں انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس جنگ کے برطانیہ پر ‘گھریلو سطح’ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت ان منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے عوام کو مہنگائی اور ایندھن کے بحران سے بچانے کیلئے پرعزم ہیں‘۔