صادق آباد کے نواز آباد میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سندھ میں یونیورسٹی کے قیام، بی بی شہید کی قربانیوں اور پاکستان کے دفاع کے حوالے سے اہم پیغامات دیے۔
آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت پنجاب کے کچے علاقوں میں یونیورسٹی بنائے گی، جس کی اجازت صدر پاکستان دیتا ہے اور انہوں نے خصوصی طور پر میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور عوامی ورکرز ملک کا سرمایہ ہیں اور فنڈز کے لیے وہ سندھ کے چیف منسٹر اور دیگر اہم شخصیات سے بات کریں گے۔
صدرمملکت نے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اپنی ذاتی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی تحریک انصاف نے انہیں بندوق کی نوک پر دھمکی دی تھی اور ان کی پیدائش کے وقت اذان کے بعد گولیوں کی آوازیں سنیں۔ انہوں نے جیل میں رہنے والی خواتین لیڈرز، خصوصاً بی بی شہید کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حمایت اور حوصلے کی بدولت پاکستان کے دفاع اور اتحاد کو برقرار رکھا گیا۔
آصف زرداری نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتا ہوئے کہا کہ جیل مردوں کی طرح کاٹو ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے عورتوں کی طرح رو کیوں رہے ہو ۔ انہوں نے بی بی شہید کی 24 سال کی عمر میں جیل جانے اور پانچ سال سکھر جیل میں رہنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں ملک کے لیے انمول ہیں۔
اپنی تقریر میں آصف علی زرداری نے سرائیکی عوام اور پاکستان کے تاریخی ورثے کا بھی ذکر کیا، کہا کہ پہلے پاکستان ہمارا ہے، پھر دیگر کا۔ انہوں نے ورکرز اور نوجوانوں سے حوصلہ رکھنے اور ڈر کے بغیر ملکی خدمت کرنے کی تلقین کی۔