بلوچستان حکومت کی بڑی کامیابی، خاتون خودکش بمبار گرفتار کر کے عوام کے سامنے پیش کردی

بلوچستان حکومت کی بڑی کامیابی، خاتون خودکش بمبار گرفتار کر کے عوام کے سامنے پیش کردی

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم اور کامیاب انٹیلیجنس آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر کے ایک بڑی دہشتگردی کارروائی ناکام بنا دی۔ گرفتار ملزمہ کی شناخت لائبہ کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع خضدار کی تحصیل زہری کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔

کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے دیگراعلیٰ حکام کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کارروائی کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ایک ممکنہ خودکش حملہ روکا گیا بلکہ دہشتگرد نیٹ ورک کے کئی پہلو بھی بے نقاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:’بلوچستان میں دہشتگردی‘، سلامتی کونسل نے تمام ممالک سے پاکستان کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کردیا، باقاعدہ اعلامیہ جاری

گرفتار خاتون لائبہ نے نیوز کانفرنس میں بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسے شدت پسند عناصر نے باقاعدہ ذہن سازی کے ذریعے خودکش حملے کے لیے تیار کیا۔ اس نے بتایا کہ کمانڈر ابراہیم نے اسے متاثر کیا اور خودکش کارروائی کے لیے آمادہ کیا، جبکہ اس کا رابطہ سلیم جان عرف دل جان سے کروایا گیا۔ اس کے مطابق اسے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مزید لڑکیوں کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کرے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمہ جولائی 2025 میں بی ایل اے میں شامل ہوئی اور مختلف شدت پسند عناصر کے ساتھ رابطے میں رہی۔ مزید انکشاف ہوا کہ وہ سابق شدت پسند کمانڈر کے لیے سہولت کاری بھی کرتی رہی اور اسے مزید تربیت کے لیے دیگر نیٹ ورکس سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں اب خواتین کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جو نہ صرف معاشرتی اقدار کے خلاف ہے بلکہ بلوچ روایات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ شناخت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور خواتین کے احترام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار خاتون کے ساتھ کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا اور اسے ایک محفوظ مرکز میں رکھ کر 3 ماہ تک تفتیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں، ہمارے اور دہشتگردوں کے درمیان یہی فرق ہے کہ ہم قانون اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں’۔

مزید پڑھیں:ڈنمارک میں مقیم پاکستانیوں کا بھارتی سپانسرڈ بلوچستان پراکسی دہشتگردی کے خلاف بڑا احتجاج

سرفراز بگٹی نے افغانستان کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار موجود عناصر بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام اب دہشتگردی کو مسترد کر چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے، اور خاص طور پر خواتین کے ذریعے ہونے والی ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر تلاشی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا، تاہم اس عمل میں خواتین کے احترام اور حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے تعلیمی اور سماجی پروگرامز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع بڑھانے اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہم چلانے کے ذریعے شدت پسندی کے رجحانات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی بڑھتی ہوئی مؤثر انٹیلیجنس صلاحیتوں کا مظہر ہے، جبکہ خواتین کو دہشتگردی میں استعمال کرنے کا رجحان ایک نیا اور تشویشناک پہلو ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *