حکومتِ پنجاب نے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت حاصل کرنے والے سرکاری افسران اور ملازمین کی پنشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سابقہ سرکاری اعلامیہ واپس لے لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنشن سے متعلق وہ پالیسی جو یکم جولائی 2025 کو نافذ کی گئی تھی، صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں منسوخ کر دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تقرری کی صورت میں پنشن سے متعلق جاری کیا گیا سابقہ حکم نامہ اپنی تاریخِ اجرا سے ہی واپس لے لیا گیا ہے، جس کے بعد اس پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہو گا۔ اس فیصلے کا اطلاق صوبے بھر کے تمام سرکاری محکموں اور اداروں پر ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ نے دی، جس کے بعد تمام انتظامی سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، منسلک محکموں کے سربراہان، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ، صوبائی پبلک سروس کمیشن، صوبائی اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے سے متعلق نقول اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب، صوبے بھر کے ضلعی اکاؤنٹس افسران اور لاہور کے ٹریژری افسر کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ مالی معاملات میں فوری طور پر نئی ہدایات پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ اس فیصلے سے وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے، جن میں سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ اسی طرح مرکزی بینک اور قومی بینک کے مرکزی اور علاقائی دفاتر کو بھی اس فیصلے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے اس اعلامیے پر ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ (ضوابط) اور متعلقہ شعبے کے سیکشن افسر کے دستخط موجود ہیں، جبکہ یہ نوٹیفکیشن 4 فروری 2026 کو لاہور سے جاری کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کرنے والے سرکاری افسران و ملازمین کی پنشن سے متعلق معاملات میں واضح تبدیلی آئے گی، جبکہ اس اقدام کو سرکاری خزانے پر مالی دباؤ کم کرنے اور پالیسی میں موجود ابہام ختم کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔