وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کے لیے رہائشی مکانات کے کرایوں کی حد میں نظرثانی کر دی ہے، جس کے تحت ملک کے بڑے شہروں کے لیے نئی رینٹل سیلنگز کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے وزارت دفاع کو مزید ضروری کارروائی کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں سرکاری افسران کے لیے رہائشی مکانات کے کرایوں کی نئی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ نئی رینٹل سیلنگز ان افسران پر لاگو ہوں گی جو خود کرایہ پر مکان حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی پروموشن سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ کرایوں میں اضافہ نظرثانی شدہ رینٹل سیلنگ کے مطابق قابل اطلاق ہوگا۔ تاہم کرایے میں اضافہ مالک مکان کے مطالبے یا حکومت کی مقرر کردہ حد، دونوں میں سے کم رقم کے مطابق کیا جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کسی بھی صورت میں کرایہ سرکاری حد سے تجاوز نہ کرے۔
مزید کہا گیا ہے کہ نئے حاصل کیے جانے والے مکانات کے کرایے کی ادائیگی اندازہ شدہ کرایے سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔ اس فیصلے کا مقصد سرکاری افسران کو موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مناسب رہائشی سہولت فراہم کرنا اور کرایوں کے تعین میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی رینٹل سیلنگز کے نفاذ سے سرکاری افسران اور مالکانِ مکانات دونوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط میسر آئیں گے، جس سے کرایوں کے تنازعات میں کمی آنے کی توقع ہے۔

