وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی اور عالمی سطح پر ملازمتوں کے امکانات اور حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایم یوتھ ہب اب ملازمتوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا ایک مرکزی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع سے آگاہی دی جا رہی ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بیرونِ ملک معلوماتی ٹیکنالوجی، صحت، تعمیرات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
حکام کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ایک ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے ملک کی 282 جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ کا ریکارڈ محفوظ کر رہا ہے، جس کے تحت یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ کتنے طلبہ کو ملازمتیں مل رہی ہیں، اس ڈیٹا کو مستقبل میں تعلیمی پالیسی سازی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم کے 32 اداروں میں تکنیکی تربیت کے لیے “میٹرک ٹیک” پروگرام متعارف کرا دیا گیا ہے، جبکہ اسی طرز پر “انٹر ٹیک” پروگرام بھی جلد شروع کیا جائے گا، جس سے نوجوانوں کو فنی مہارتیں سیکھنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے رانا مشہود کی سربراہی میں جاری یوتھ پروگرام کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، جنہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ نوجوانوں کو عصری ضروریات کے مطابق فنی اور تکنیکی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصلاحات کے بعد نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کے تربیتی پروگراموں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔