کالعدم تنظیم ’بلوچستان لبریشن آرمی‘(بی ایل اے) سے وابستہ ایک اہم کمانڈر افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے کالعدم بی ایل اے کمانڈر کی شناخت نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو ’ڈاکٹر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اسے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ماہ رنگ بلوچ کا قریبی رشتہ بھی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق نعیم عرف ڈاکٹر طویل عرصے سے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور تنظیم کے عسکری نیٹ ورک میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے ایک فعال دھڑے کالعدم ’مجید بریگیڈ‘ سے بھی وابستہ رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کئی دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ بریگیڈ تنظیم کے سب سے زیادہ فعال اور خطرناک آپریشنل ونگز میں شمار کی جاتی ہے۔ اس یونٹ کو اکثر خودکش حملوں، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز سمیت اہم سرکاری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعیم عرف ڈاکٹر کو تنظیم کے اندر ایک اہم کمانڈر کی حیثیت حاصل تھی اور وہ مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وہ اس وقت ہلاک ہوا جب افغانستان کے صوبہ قندھار میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک کارروائی کی گئی۔
تاہم حکام کی جانب سے اس آپریشن کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ قندھار، جو افغانستان کے جنوبی حصے میں واقع ایک اہم صوبہ ہے، ماضی میں بھی سرحد پار دہشتگردی اور مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث علاقائی سلامتی کے مباحثوں میں زیر بحث رہا ہے۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بعض دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا کمانڈر سماجی کارکن ماہ رنگ بلوچ کا قریبی رشتہ دار بھی بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذکورہ کارکن یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق پاکستان میں اس تنظیم کو بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔