امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما سے متعلق متنازع اور توہین آمیز ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس معاملے پر پیدا ہونے والے شدید ردِعمل کے باوجود ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں سابق صدر براک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کو انتہائی توہین آمیز انداز میں پیش کیا گیا۔ ویڈیو میں دونوں شخصیات کو غیر انسانی اور نازیبا شکل میں دکھایا گیا، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔
ویڈیو سامنے آتے ہی امریکی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا، جہاں ڈیموکریٹک رہنماؤں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس عمل کو اخلاقی اقدار کے منافی قرار دیا۔ عوامی دباؤ میں اضافے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ ویڈیو اپنی سوشل میڈیا پروفائل سے حذف کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کے معاملے پر نیتن یاہو اور ٹرمپ اگلے ہفتے ملاقات کریں گے
تاہم، بعد ازاں ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ اس ویڈیو پر کسی قسم کی معذرت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کوئی غلطی نہیں کی اور نہ ہی انہیں اپنے اقدام پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو صدر کی جانب سے نہیں بلکہ ایک اسٹاف ممبر کی غلطی کے باعث پوسٹ ہوئی تھی، جسے بعد میں فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ تاہم ناقدین نے اس وضاحت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر یہ محض غلطی تھی تو صدر ٹرمپ معافی مانگنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تلخی اور سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر امریکا کے تشخص پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

