پاکستان اور امریکا آج کولمبو میں آمنے سامنے ہوں گے، جہاں دونوں ٹیمیں اپنے ابتدائی میچز کے بعد مختلف جذبات کے ساتھ میدان میں اتریں گی کیونکہ ٹی 20 ورلڈ کپ اب باقاعدہ طور پر اپنے رنگ میں آنا شروع ہو گیا ہے، میچ شام 6 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان نیدرلینڈز کے خلاف ایک اعصابی فتح جس میں فہیم اشرف کی آخری اوور سے قبل شاندار کارکردگی نے ٹیم کو کامیابی دلائی، کے بعد آج امریکا کے خلاف میدان میں اترے گا، نیدر لینڈز کے خلاف میچ نے پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اب تک اپنے پہلے پوائنٹس کے حصول کا منتظر ہے، جبکہ بھارت کے خلاف سوریا کمار یادو کی جارحانہ بیٹنگ نے اسے کرکٹ کی تاریخ کے ایک بڑے اپ سیٹ سے محروم کر دیا۔
دونوں ٹیموں کے ابتدائی میچز ایسے تھے جن کے نتائج باآسانی الٹ بھی ہو سکتے تھے، جس کے باعث یہ مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس سے ٹورنامنٹ کی عالمی توجہ میں مزید اضافہ ہوا۔
امریکی ٹیم اپ سیٹس کی تاریخ رکھتی ہے۔ 2 سال قبل اسی حریف پاکستان کے خلاف امریکا نے میچ کو سپر اوور تک لے جا کر یادگار کامیابی حاصل کی تھی۔ حالیہ دنوں میں بھی اس ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت بڑا سرپرائز دے سکتی ہے، جب اس نے وارم اپ میچ میں نیوزی لینڈ کو سخت مقابلہ دیا اور پھر بھارت کے خلاف خوفناک مزاحمت کی۔
امریکی ٹیم کو تاہم سفری مسائل کا سامنا ہے، کیونکہ اسے ممبئی سے کولمبو کا سفر کرنا پڑ رہا ہے اور پچھلے میچ اور ٹاس کے درمیان 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میسر ہے۔ اس کے باوجود، بھارت کے خلاف ان کی منظم بولنگ انہیں اعتماد فراہم کرتی ہے، جہاں فاسٹ بولرز اور اسپنرز نے ابتدائی اوورز میں حریف کو دباؤ میں رکھا۔
امریکا کو چند اہم کھلاڑیوں کی انجری کا بھی سامنا ہے۔ علی خان ٹانگ کی چوٹ کے باعث اس میچ کے لیے مشکوک ہیں، جبکہ شبھم رنجانے کو بھی فیلڈنگ اور بولنگ کے دوران مشکلات پیش آئیں۔ اس کے باوجود شیڈلی وان اسخالک وِک کی سیم بولنگ اور محمد محسن اور ہرمت سنگھ کی اسپن جوڑی امریکی ٹیم کے لیے متبادل آپشنز فراہم کرتی ہے۔
امریکی ٹیم کو اپنے ٹاپ آرڈر سے بہتر کارکردگی درکار ہوگی، جو بھارت کے خلاف ابتدا میں ہی ناکام ہو گیا تھا۔ کپتان موننک پٹیل اور وکٹ کیپر اینڈریز گوس اس بار اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کے خواہاں ہوں گے۔
پاکستانی ٹیم اب بھی نیدرلینڈز کے خلاف میچ میں حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد سکھ کا سانس لے رہی ہے، تاہم یہ فتح ٹیم کی ذہنی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر گئی۔ ایک مرحلے پر آسان پوزیشن میں ہونے کے باوجود، چند وکٹیں گرنے کے بعد پاکستانی بیٹنگ دباؤ میں بکھر گئی، جو گزشتہ 3 آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ابتدائی اخراج کی یاد دلاتی ہے۔
بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کے باعث، پاکستان کے لیے گروپ کے تمام مقابلے ناک آؤٹ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگرچہ فیلڈنگ اور بولنگ مجموعی طور پر حوصلہ افزا رہی، تاہم مڈل آرڈر کی کمزوری بدستور تشویش کا باعث ہے۔
بابر اعظم کی خراب فارم پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ سلمان علی آغا نے خود کو اوپر کے نمبرز پر پروموٹ کیا ہے۔ عثمان خان ابھی پوری طرح آزمائے نہیں گئے، اور آل راؤنڈرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش امریکی ٹیم کرے گی۔
اس میچ میں خاص توجہ شاہین شاہ آفریدی پر ہوگی، جو نیدرلینڈز کے خلاف پاور پلے میں مشکلات کا شکار رہے۔ پچ پر غیر متوقع طور پر گھاس موجود ہونے کے باعث، پاکستان کو اپنے سینئر فاسٹ بولر سے بہتر کارکردگی کی امید ہوگی۔
امریکا کے لیے سوربھ نیتراوالکر ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہوں گے۔ 2 سال قبل پاکستان کے خلاف تاریخی فتح کے ہیرو رہنے والے نیتراوالکر حالیہ میچ میں بھارت کے خلاف مہنگے ثابت ہوئے، تاہم امریکی ٹیم کو امید ہے کہ ماضی کی کامیاب یادیں انہیں اس بار حوصلہ دیں گی۔
سنهلیز اسپورٹس کلب کی پچ پر کچھ گھاس موجود رہنے کا امکان ہے، جبکہ دن بھر بادل چھائے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تاہم بارش کے میچ میں خلل ڈالنے کا امکان کم ہے۔
پاکستان اگرچہ ٹورنامنٹ میں اپنی قسمت کا کچھ حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا محسوس ہوتا ہے، جبکہ امریکا سمجھتا ہے کہ ابتدائی ناکامی کے بعد اب قسمت اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ایسے میں ایک اور سنسنی خیز مقابلے کے امکانات روشن ہیں۔