کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اجلاس ،وفاق اور کے پی میں مؤثر رابطوں کے ذریعے د ہشتگردی سے نمٹنے کیلئے یکساں مؤقف یقینی بنانے کا فیصلہ

کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اجلاس ،وفاق اور کے پی میں مؤثر رابطوں کے ذریعے د ہشتگردی سے نمٹنے کیلئے یکساں مؤقف یقینی بنانے کا فیصلہ

صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور کے علاوہ اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی قربانیوں کو سراہا گیا۔

اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ رواں سال پشاور میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کا انعقاد کیا جائے گا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میچز کا پشاور میں انعقاد صوبے میں سیکیورٹی کی بہتری، عوام کے اعتماد اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کی علامت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں :کور کمانڈر ہاؤس پشاور میں کابینہ کا اجلاس، بیرسٹر ڈاکٹر محمد سیف کا اہم بیان سامنے اگیا

مزید برآں اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کی نگرانی میں ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس ماڈل کی کامیابی کے بعد اسے خیبر پختونخوا کے دیگر متاثرہ اضلاع خصوصاً خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا تاکہ وہاں گورننس کو مؤثر بنایا جا سکے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

ان اضلاع میں جاری اور آئندہ شروع کیے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی عسکری کارروائی کے جائزے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے گی اور زمینی حقائق کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ متاثرہ اضلاع میں گورننس اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ انہیں مستقل آمدنی کے ذرائع میسر آ سکیں۔ اس کے علاوہ عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر اور فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان مؤثر رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ذریعے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسی اور مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں نوجوانوں کو شدت پسندانہ سوچ سے دور رکھنے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آخر میں اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کا اختتام صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *