انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی)، پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات ختم ہو گئے جس کے بعد اگلے 24 گھنٹے میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت سے میچ کھلانےکے لیے منانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس حوالے سے لاہور میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان مذاکرات جاری رہے، مذاکرات میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق فریقین کے مابین مذاکرات 5 گھنٹے سے زائد جاری رہے جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا فوکس بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد اس معاملے پر اگلے 24 گھنٹے میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں آئی سی سی اور بی سی بی کے مابین تجاویز کا تبادلہ ہوا، پاکستان کرکٹ بورڈ نے باہمی رابطہ کار کے فرائض انجام دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبات پر مثبت ردعمل دیا اور بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے کے لیے فارمولہ تیار کر لیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ تجاویز کی حتمی منظوری لینے کے لیے واپس روانہ ہو گئے ۔
بنگلا دیش بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی اپنی حکومت کو بریف کرنے کے لیے واپس روانہ ہو گئے ۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ باہمی فارمولے پر اتفاق کے بعد آج دوپہر آئی سی سی اور بی سی بی کا دوبارہ رابطہ ہوگا۔
اس سے قبل ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو جواب دیا ہےکہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنےکا فیصلہ حکومت کا ہے اور بھارت کے خلاف میچ کھیلنےکا فیصلہ بھی حکومت ہی کرےگی۔