آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی سازش: برطانوی اخبار کا تہران کے ٹریفک کیمروں کی ہیکنگ کا انکشاف

آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی سازش: برطانوی اخبار کا تہران کے ٹریفک کیمروں کی ہیکنگ کا انکشاف

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے تہران کے ٹریفک کیمروں کی ہیکنگ سے متعلق ہوش ربا رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کو دفاعی ماہرین ایران کے لیے ایک “بیدار کن پکار” اور مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس رپورٹ کے ذریعے سامنے آنے والی تکنیکی تفصیلات نے ایرانی سائبر سکیورٹی اداروں کو اپنے نظام میں موجود ان تمام خفیہ سقم اور خلاؤں کی نشاندہی کرنے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے جو برسوں سے دشمن کے زیرِ استعمال رہے تھے۔

اس انکشاف کے بعد ایران نے اپنے تمام حساس مقامات، بالخصوص پاستور اسٹریٹ اور سپریم لیڈر کے دفتر کے گرد و نواح میں انٹرنیٹ سے مکمل کٹے ہوئے ‘ایئر گیپڈ’ ڈیجیٹل سسٹمز اور جدید ترین انکرپٹڈ نیٹ ورکس کی تنصیب شروع کر دی ہے، جس سے مستقبل میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

یہ رپورٹ اس لحاظ سے بھی ایک اچھی خبر ثابت ہوئی ہے کہ اس نے ایران کے آئی ٹی ماہرین کو مصنوعی ذہانت  اور الگورتھمز کے ذریعے کی جانے والی جاسوسی کا توڑ کرنے کے لیے مقامی سطح پر نئے اور محفوظ سافٹ ویئرز تیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کا اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور فضائیہ ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ

تہران کے ٹریفک کنٹرول سسٹم اور موبائل ٹاورز کی سکیورٹی کو اب عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف حکومتی شخصیات بلکہ عام شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ دشمن کی اس طویل المدتی مہم کا بے نقاب ہونا ایران کے دفاعی ڈھانچے کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنا دے گا، کیونکہ اب تمام حفاظتی حصاروں کو نئی تزویراتی بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے جو کسی بھی سائبر حملے یا الیکٹرانک وارفیئر کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *