افغانستان میں دہشتگرد گروہوں، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی کو بھرپور سہولیات میسر ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بڑے انکشافات

افغانستان میں دہشتگرد گروہوں، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی کو بھرپور سہولیات میسر ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بڑے انکشافات

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو طالبان حکومت کے زیرِ انتظام افغانستان میں سرگرم دیگر شدت پسند گروہوں کے مقابلے میں ترجیحی سہولتیں حاصل ہیں، جس سے رکن ممالک میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ تنظیم خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو جولائی سے دسمبر 2025 کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’افغانستان میں ڈی فیکٹو حکام نے مختلف دہشت گرد گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، کو سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا جاری رکھا ہوا ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ افغانستان میں کئی شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں، تاہم ٹی ٹی پی کو دیگر گروہوں کے مقابلے میں زیادہ آزادی اور معاونت دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ٹی ٹی پی کو ڈی فیکٹو حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور حمایت حاصل رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں میں اضافہ ہوا اور علاقائی کشیدگی میں شدت آئی۔‘

یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی، افغانستان کا کردار اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ کارکردگی پر اقوام متحدہ کی رپورٹ جاری

رپورٹ کے مطابق 2025 میں ٹی ٹی پی سے منسوب 3,500 سےزیادہ حملوں میں سے 2,100 سے زیادہ سال کے دوسرے نصف میں ریکارڈ کیے گئے، جو تشدد میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔

سرحدی صوبوں میں مضبوط موجودگی

مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم سب سے بڑے دہشتگرد گروہوں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے، جس کے جنگجوؤں کی تعداد کا محتاط اندازہ تقریباً 6,000 بتایا گیا ہے۔ تنظیم کی مشرقی اور جنوب مشرقی سرحدی صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیکا بشمول برمل ضلع اور پکتیا میں مضبوط موجودگی ہے۔ رپورٹ میں ان علاقوں میں نئے یا توسیع شدہ تربیتی مراکز کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر حقانی نیٹ ورک جیسے نیٹ ورکس کا اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے جائزوں کے مطابق ٹی ٹی پی کو طالبان کی جانب سے برداشت یا فعال حمایت حاصل رہی، جس میں محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی ، بشمول کابل میں سینیئر رہنماؤں کے لیے گیسٹ ہاؤسز، سفری اجازت نامے، اسلحہ رکھنے کے اجازت نامے اور لاجسٹک معاونت شامل ہیں۔ یہ انتظامات اس حقیقت کے باوجود جاری رہے کہ طالبان کے اندر بعض حلقے پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث ٹی ٹی پی کو بوجھ سمجھتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کی صفوں سے بھی بھرتیاں کیں اور اپنی عملی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔

خطے سے باہر خطرے کا خدشہ

پاکستان میں حملوں میں اضافے کے علاوہ رکن ممالک نے ٹی ٹی پی کے ممکنہ مستقبل کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ’کچھ رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹی ٹی پی القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کر سکتی ہے تاکہ زیادہ وسیع اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں خطے سے باہر خطرہ پیدا ہو سکتا ہے‘۔

اگرچہ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی اس وقت خطے سے باہر حملے کر رہی ہے، تاہم اس میں خبردار کیا گیا کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں سازگار ماحول اس تنظیم کو القاعدہ کی پشت پناہی سے وسیع تر عزائم اور صلاحیتیں حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔

رپورٹ میں القاعدہ کو افغانستان میں دیگر گروہوں کے لیے ’سروس فراہم کنندہ اور قوت میں اضافہ کرنے والا عنصر‘ قرار دیا گیا، جو خصوصاً ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتی ہے۔ گہرے تعاون کی صورت میں منظم اتحاد، مشترکہ منصوبہ بندی اور جنگجوؤں و وسائل کے وسیع تر ذخیرے تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔

القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ جنوب مشرقی افغانستان میں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ زیادہ ہے، سرگرم ہے۔ اس کے ‘امیر’ اسامہ محمود اور نائب یحییٰ غوری کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ اس کا میڈیا سیل ہرات میں قائم بتایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی جائے گی، پاکستان کا دوٹوک اعلان

رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ اے کیو آئی ایس بیرونی کارروائیوں پر توجہ بڑھا سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر غیر اعلانیہ یا قابلِ تردید کارروائیاں ہوں گی، شاید اتحاد المجاہدین پاکستان نامی گروہ کے پلیٹ فارم سے، جس کا اعلان اپریل میں کیا گیا تھا۔

داعش خراسان میں محترک

رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ عراق و شام خراسان (داعش خراسان) 2025 میں مسلسل انسدادِ دہشت گردی دباؤ کے باوجود مضبوط ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’داعش خراسان مسلسل انسدادِ دہشتگردی دباؤ کا سامنا کرتی رہی، لیکن اس نے بیرونی کارروائیاں کرنے کی نیت کے ساتھ مؤثر صلاحیت برقرار رکھی‘۔

اگرچہ علاقائی ممالک اور طالبان کی کارروائیوں کے نتیجے میں حملوں کی مجموعی تعداد میں کمی آئی، تاہم تنظیم کا عملی ڈھانچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور وہ دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

داعش خراسان بنیادی طور پر شمالی افغانستان، خصوصاً بدخشاں اور پاکستانی سرحد کے قریب علاقوں میں سرگرم رہی، جہاں اس نے علاقائی اور ممکنہ طور پر وسیع تر خطرہ پیدا کرنے کے لیے سیلز کا نیٹ ورک برقرار رکھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ گروہ آن لائن بھرتی کے ذریعے تیزی سے جنگجوؤں کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ مزید برآں، داعش اور القاعدہ دونوں کی جانب سے سائبر صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا، جو پراپیگنڈا، بھرتی اور عملی منصوبہ بندی کو تقویت دے سکتی ہیں۔

مانیٹرنگ ٹیم نے اندازہ ظاہر کیا کہ داعش خراسان کی مضبوط بھرتی اور ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے 6 فروری کو اسلام آباد کے نواح میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے بندوق اور بم حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔

شدت پسند گروہوں میں بڑھتا تعاون

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں مختلف شدت دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رکن ممالک نے اطلاع دی کہ بلوچ لبریشن آرمی نے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ساتھ مشترکہ تربیتی کیمپوں اور وسائل کے ذریعے تعاون کیا اور حملوں کی ہم آہنگی اور کمانڈروں کے درمیان ملاقاتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

مجموعی طور پر اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ اس بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کو اجاگر کرتی ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال شدت پسند گروہوں کو نہ صرف اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے بلکہ ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا سے باہر اپنے اثرات بڑھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *