صوبائی دارالحکومت پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق مکس آٹے کا 20 کلو گرام تھیلا 2400 روپے سے بڑھ کر 2500 روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ فائن آٹے کا 20 کلو تھیلا 2600 روپے سے بڑھ کر 2700 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آٹے کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سپلائی اور طلب کے درمیان توازن متاثر ہونے سے ریٹ بڑھ رہے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کا اثر بھی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رمضان ریلیف پیکج،12500روپے لینے والوں کیلئے بڑی شرط ختم،اب پیسے کیسے ملیں گئے۔تفصیلات جانیے
دوسری جانب شہریوں نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر رکھا ہے، ایسے میں آٹے اور چینی جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس سے متوسط اور کم آمدن والے طبقے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دیگر بڑے شہروں بشمول لاہور اور کراچی میں بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، خصوصاً رمضان المبارک سے قبل طلب میں اضافے کے باعث ریٹس اوپر گئے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاکہ عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تاہم فی الوقت مارکیٹ میں آٹے کی نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے اور شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔