ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد اسرائیل کے پاس میزائل روکنے والے انٹر سیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کے لیے دستیاب انٹر سیپٹرز کی تعداد بہت محدود ہو گئی ہے، امریکہ اسرائیل کی اس کمزور دفاعی صلاحیت سے مہینوں سے واقف ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران کی جانب سے تل ابیب اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ پندرہ روز میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔
عرب میڈیا نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان پندرہ روز میں ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایک 1 1454افراد شہید ہوئے،اسرائیلی حملوں سے لبنان میں773 افراد جاں بحق ہوئے،اسرائیل میں اس دوران14 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایرانی حملوں میں 11 امریکی فوجی مارے گئے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے اثرات خطے کے دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ عالمی برادری کی کوششوں کے باوجود فی الحال جنگ بندی یا مذاکرات کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔