امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کی ایک حالیہ اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جاری جنگ کے ابتدائی ایام میں ایران نے انتہائی منظم حکمت عملی کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں پھیلے ہوئے امریکی فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) کے “اعصابی مرکز” یعنی ریڈارز کو نشانہ بنا کر انہیں ناکارہ بنا دیا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تفصیلی تجزیے اور دفاعی ماہرین کی مدد سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، ایران نے روایتی اہداف کے بجائے دشمن کی “آنکھوں” (ریڈار سسٹم) کو اندھا کرنے پر توجہ مرکوز کی، جس کی وجہ سے بعد میں کیے جانے والے ایرانی میزائل حملے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی ہے کہ اردن کی موفق سالتی ایئر بیس پر نصب امریکی ‘تھاڈ’ سسٹم کا AN/TPY-2 ریڈار ایرانی حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اس ریڈار کی قیمت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے اور اس کے بغیر تھاڈ بیٹری میزائلوں کو روکنے کے قابل نہیں رہتی۔
یو اے ای میں الرویس اور الصدر کے مقامات پر موجود دو فوجی تنصیبات پر بھی ایرانی میزائل گرے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں ریڈارز کو رکھنے والی عمارتوں (Hangers) کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ عمارتوں کے اندر موجود نقصان کا سو فیصد اندازہ مشکل ہے، لیکن تصاویر میں براہِ راست ہٹ کے نشانات واضح ہیں۔
قطر کے علاقے ام دہل میں نصب امریکی ارلی وارننگ ریڈار سسٹم (FPS-132 Block 5) کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ خلیج میں امریکہ کے میزائل ڈیفنس آرکیٹیکچر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی ماہر این آر جینزن جونز نے سی این این کو بتایا کہ ریڈارز کا نقصان محض مالی نقصان نہیں بلکہ ایک “تزویراتی صدمہ” ہے، کیونکہ ان پیچیدہ سسٹمز کی فوری مرمت یا تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: روس کا ایران کو خفیہ انٹیلی جنس تعاون: امریکی فوجی اثاثوں کی لوکیشن فراہم کرنے کا انکشاف

