پی ٹی ایم اور بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب ، احتجاج کیلئے بھارتی فنڈنگ کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گئے

پی ٹی ایم اور بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب ، احتجاج کیلئے بھارتی فنڈنگ کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گئے

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم )  اور بھارتی جوڑ کھل کر سامنے آگیا، لندن میں ہونیوالے احتجاج کیلئے بھارت کی جانب سے فنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آگئے۔

پی ٹی ایم یو کے چیپٹر سے حاصل کردہ تصدیق شدہ ریکارڈ کیمطابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹو شاہد کاکڑ کو لندن میں احتجاج کی کال دینے کے بعد 8 مارچ 2026 کو ایک بھارتی اکاؤنٹ سے تقریباً 11 ہزار پاؤنڈ موصول ہوئے۔

دستیاب مالیاتی ریکارڈز اور اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ اس رقم کی موصولی کی نشاندہی کرتے ہیں ، اس طرح کے لین دین یہ ثابت کرتے ہیں کہ احتجاج نچلی سطح پر نہیں تھا، بلکہ ایک پہلے سے منصوبہ بندی مہم کا حصہ تھا جس کی حمایت پاکستان مخالف مفادات رکھنے والوں کے ذریعے کی گئی تھی ۔

تحقیقات سے افغان ڈائاسپورا نیٹ ورکس کے ساتھ بھی ان  کی ہم آہنگی کا پتہ چلتا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ احتجاج صرف مقامی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں پاکستان مخالف بیانیے کو بڑھانے کے لیے بیرونی سہولت کے ساتھ  منظم انداز میں سیٹ کیے گئے تھے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پی ٹی ایم، جو خود کو پشتون قوم کا نمائندہ کہتے ہیں، درحقیقت بھارت کے آلۂ کار بن چکے ہیں، بھارت جو طویل عرصے سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پی ٹی ایم کی مالی اور سیاسی سرپرستی کر رہا ہے۔

ان پاکستان دشمن گروہوں کا اصل مقصد ریاستی سیکیورٹی اداروں کو کمزور کرنا، ریاست مخالف جذبات کو ہوا دینا، اور نسلی و لسانی تفریق کو فروغ دینا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی تجزیہ کار اور شاراکا نامی این جی او کے رکن ڈین فیفرمین کی کالعدم پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والی خاتون آئینہ درخانے کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

شاہد کاکڑ ، آئینہ درخانے اور پی ٹی ایم کے دیگر قیادت کے خیالات اور حرکات سے واضح ہے کہ اسرائیل ، بھارت اور پی ٹی ایم ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں جن کا واحد مقصد پاکستان اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے، لہذا  اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے عناصر کے کردار اور سرگرمیوں کا شفاف اور غیر جانبدارانہ احتساب کیا جائے تاکہ یہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں ۔

editor

Related Articles