وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تاجروں اور صنعتکاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ بیرونِ ملک موجود پاکستانی سرمایہ کو واپس لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیلڈ مارشل جو وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح کاروباری طبقے کو آسانیاں فراہم کرنا اور معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔
محسن نقوی نے کاروباری اور صنعتی برادری سے اپیل کی کہ وہ بیرونِ ملک موجود اپنے سرمائے کا کچھ حصہ پاکستان منتقل کریں، انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا رہا کہ تمام سرمایہ واپس لایا جائے، بلکہ اگر تاجر برادری صرف ایک حصہ بھی واپس لے آئے تو ملکی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ بجٹ سے قبل کم از کم دس ارب ڈالر پاکستان لانے کی کوشش کی جائے، جو کوئی ناممکن ہدف نہیں، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں میں سو ارب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوا، جس کا کچھ حصہ واپس آ جائے تو معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے روشن اکاؤنٹ کی سہولت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تاجر برادری اپنے بیرونِ ملک موجود سرمائے کا صرف تیس فیصد بھی واپس لے آئے تو یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری پر جو منافع ملتا ہے وہ دنیا کے کئی ممالک میں دستیاب نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری شخصیات کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا، اور مکمل تصدیق کے بعد انہیں سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں آسانی سے جاری رکھ سکیں۔