ہماری افواج نے فیصلہ کن اقدام سے واضح کردیا کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائےگا،صدر مملکت

ہماری  افواج  نے فیصلہ کن اقدام سے واضح کردیا کسی دراندازی کو  برداشت نہیں کیا جائےگا،صدر مملکت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی بھی ملک یا گروہ کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

صدر مملکت نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید مذمت بھی کی۔صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ بطور دو مرتبہ منتخب صدر پارلیمنٹ سے یہ ان کا نواں خطاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران کے وقت نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہےاور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ملک کی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان اپنی شہری خوشحالی، امن اور استحکام کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے قومی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بنیادیں قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے،آصف زرداری

انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے جمہوری ریاست کے تصور، ذوالفقار علی بھٹو کے متفقہ آئین اور بے نظیر بھٹو کی قیادت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دور میں اصل آئین کو بحال کیا اور اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے۔

خطاب میں صدر مملکت نے گزشتہ دس ماہ کے دوران درپیش پیچیدہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا گیا۔

صدر نے کہا کہ مغربی سرحد پر ہونے والی دراندازی کی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے گئے اور سیاسی قیادت نے قومی اتحاد کا مظاہرہ کیاصدر نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ملکی دفاع کے لیے آئین کے آرٹیکل اکیاون کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں ، آصف زرداری

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی کو بھی ملک کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو مبینہ پناہ دینے کے معاملے پر تشویش موجود ہے، تاہم پاکستان مذاکرات کے راستے کو بھی ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔

خطاب کے اختتام پر صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں، قومی یکجہتی اور اداروں کی قربانیوں پر فخر کرتا ہے اور مستقبل میں بھی امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *