پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جیل میں جاری طبی نگہداشت سے متعلق ابتدائی میڈیکل رپورٹ حکومتِ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، جس میں ان کی صحت، علاج اور روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے طبی معائنے کی مکمل تفصیلات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بانی کے وائٹل سائنز بشمول بلڈ پریشر، نبض، ٹمپریچر اور شوگر لیول کا باقاعدہ چارٹ بھی مرتب کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آن ڈیوٹی ڈاکٹرز روزانہ 3 مرتبہ عمران خان کا طبی معائنہ کرتے ہیں اور ان کے وائٹل سائنز باقاعدگی سے نوٹ کیے جاتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر تیار ہونے والا یہ ریکارڈ جیل انتظامیہ کے پاس محفوظ رکھا جاتا ہے اور متعلقہ حکام کو بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھوں سے متعلق صورت حال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس حوالے سے کنسلٹنٹس کی رپورٹس بھی حکومتِ پنجاب کو ارسال کی گئی ہیں۔ میڈیکل سٹاف کی تفصیلات، ڈیوٹی روسٹر اور علاج کے مراحل بھی رپورٹ کا حصہ ہیں تاکہ صحت کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹرز کی ایک خصوصی ٹیم پہنچ گئی ہے۔ جیل کے 5 نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس اور ڈاکٹرز کی ٹیم کو اندر داخل ہوتے دیکھا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی پر مشتمل میڈیکل ٹیم بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کرے گی اور ان کی صحت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا انہیں مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔
اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات عمران خان کی صحت اور سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی طبی نگہداشت کے حوالے سے تمام امور قانون اور جیل قواعد کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل انتظامات موجود ہیں۔