امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، سمندری تجارتی راستوں پر سیکیورٹی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے بحری جہازوں کو بہت جلد نیوی کے ذریعے حفاظتی حصار فراہم کیا جائے گا۔
ایک حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے خطے کی پیچیدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد اور ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم سمندری حدود کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو کسی بھی ممکنہ حملے یا مداخلت سے بچانے کے لیے امریکی نیوی کے جنگی بیڑے حفاظتی خدمات فراہم کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیل امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، لیکن ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کی حکمتِ عملی اور حتمی مقاصد میں فرق ہو سکتا ہے۔
اس اقدام کا مقصد عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کو بلاتعطل برقرار رکھنا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین ‘چوک پوائنٹ’ تصور کی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان وہ حساس راستہ ہے جہاں سے دنیا کی پیٹرولیم مصنوعات کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور “آپریشن ایپک فیوری” کے تناظر میں اس راستے کی سیکیورٹی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوی کے ذریعے بحری جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے فیصلے سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ ہوگا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جوابی کارروائی کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔
مزید پڑھیں: ایران کا سمندری راستوں پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ: “آبنائے ہرمز میں امریکی و اسرائیلی جہاز ہمارا شکار ہیں”