بھارتی ایوان میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چرچے، اپوزیشن نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارتی ایوان میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چرچے، اپوزیشن نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارت کی پارلیمنٹ میں اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اپوزیشن رہنما سنجے سنگھ نے حکومت کی خارجہ پالیسی اور حالیہ جنگی صورتحال پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما سنجے سنگھ نے برملا کہا کہ مودی حکومت حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کر کے عالمی سطح پر اپنی غیر جانبداری کھو بیٹھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان کامیابی کیساتھ ’’ونر‘‘، بھارت واضح طور پر ’’لوزر‘‘ قرار

انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایک آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے تھی لیکن حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے یکطرفہ موقف اختیار کیا۔

اپوزیشن رہنما نے اپنے خطاب کے دوران نریندر مودی اور امیت شاہ کو اسرائیل کا چمچہ گیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی موجودہ قیادت عالمی معاملات میں خود مختار فیصلے کرنے کے بجائے دوسروں کے مؤقف کی پیروی کر رہی ہے۔

سنجے سنگھ نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موجودہ قیادت بحران کے وقت مضبوط قیادت دکھانے کے بجائے پیچھے ہٹتی نظر آئی۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جبکہ حکومتی اراکین نے بھی سخت احتجاج کیا۔

اپوزیشن رہنما نے اپنے خطاب میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بعض ممالک نے حالیہ کشیدگی کے دوران متوازن اور محتاط پالیسی اختیار کی جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ سفارت کاری ہی خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ میں سنجے سنگھ کے خطاب کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں اپوزیشن جماعتیں حالیہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں حکومت کی خارجہ پالیسی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ عالمی معاملات میں متوازن کردار ادا کرنے کے بجائے بعض طاقتوں کے ساتھ کھل کر کھڑی ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں:2025 بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اورہزیمت کا سال، عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، دی ہندو

دوسری جانب حکومتی حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر خود مختار ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں ہونے والی یہ بحث ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کے اندر بھی حالیہ جنگ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے شدید سیاسی اختلافات موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید سیاسی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *