پاکستان میں جاری مذہبی و ثقافتی موسم کے تناظر میں ضلع جامشورو کی ضلعی انتظامیہ نے حضرت لال شہباز قلندرؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر جمعہ 7 فروری کو مقامی چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی چوہدری کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اس روز بند رہیں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ زائرین کو سہولت فراہم کرنے اور عرس کے دوران انتظامی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں مختلف مذہبی و قومی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر پورے ملک میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جس کے تحت مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات اور اظہارِ یکجہتی کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب حکومتِ پنجاب نے بھی بسنت کی تقریبات کے حوالے سے تعطیلات کا اعلان کیا ہے، جس سے ماہِ فروری کے آغاز میں تہواروں کی فضا مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
حضرت لال شہباز قلندرؒ کا تین روزہ سالانہ عرس سندھ کے تاریخی شہر سیہون شریف میں منعقد ہو رہا ہے، جو تیرہویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ کا مدفن ہے۔ یہ عرس پاکستان کی بڑی مذہبی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے، جس میں ملک بھر کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
عرس کے دوران روایتی دھمال، اجتماعی دعائیں اور روحانی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ زائرین حضرت لال شہباز قلندرؒ کے پیغامِ محبت، رواداری اور اخوت سے روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، جو آج بھی صوفی روایت کا مضبوط استعارہ ہے۔
ضلعی و صوبائی حکام کے مطابق عرس کے موقع پر سکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ متوقع رش کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔ عوام اور زائرین کی سہولت اور امن و امان کے قیام کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔