پاکستان سمیت 8 اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دینے والے نئے اسرائیلی قانون کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
2 اپریل کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ انڈونیشیا، اردن، ریاست قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے اس اقدام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں وزرا نے خبردار کیا کہ ایسی امتیازی قانون سازی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری اپارتھائیڈ (نسلی امتیاز) کے نظام کو مزید مضبوط کرے گی۔
وزرا نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ یہ قانون خاص طور پر فلسطینی قیدیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، جو علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور زمینی کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔
اعلامیے میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کے وجود اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو مسترد کرنے والا کوئی بھی بیانیہ عالمی سطح پر مسترد کر دیا جائے گا۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں موجود فلسطینی قیدیوں کی ابتر حالتِ زار پر بھی دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں پر تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق کی نفی کی قابلِ اعتبار رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جو کہ فلسطینیوں کے خلاف جاری وسیع تر جابرانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی نسلی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں کی شدید مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قابض طاقت ایسے اقدامات سے فوری طور پر پرہیز کرے جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے آخر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مضبوط کرے۔
وزرا ئے خارجہ نے واضح کیا کہ بات چیت اور انصاف کی فراہمی ہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے اور فلسطینیوں کے خلاف جاری اس منظم جبر کو فوری طور پر روکنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔