ایرانی میڈیاکے مطابق آج صبح دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں بشمول شہر کے جنوب مغربی حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم دھماکوں کی نوعیت یا نقصانات کی تفصیلات فوری سامنے نہیں آئیں۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسی دوران ملک کی اہم ترین تزویراتی بندرگاہوں میں سے ایک، بندر عباس میں بھی شدید دھماکوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
علاوہ ازیں ایرانی میڈیا نے ملک کے جنوبی شہر اہواز میں شدید بمباری کی اطلاع دی ہے ، جس کے ساتھ ہی وہاں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ واقعات ایران کے اندرونی علاقوں میں ہونے والے حملوں کی شدت میں واضح اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شیراز شہر میں “بسیج” فورسز کے ایک مرکز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ قشم میں سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم نقصانات کے حوالے سے اب تک درست معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایرانی دارالحکومت تہران میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک وسیع لہر شروع کی ہے۔
ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فضائی حملوں میں وسطی تہران میں فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں اسلحہ سازی کے تقریبا 15 مقامات شامل ہیں، جن میں ایرانی وزارت دفاع کا ایک مرکزی کمپلیکس بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا کہ اس نے صرف گذشتہ دو دنوں کے دوران ایرانی حکومت سے وابستہ تقریباً 400 اہداف پر حملے کیے ہیں، جو حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران اب تک کے سب سے بڑے اعلانیہ حملوں میں سے ایک ہیں۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے حالیہ دھمکیوں پر ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری اور پارلیمانی حکام نے سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج کسی بھی جارحیت کی صورت میں حملہ آوروں کے پاؤں کاٹ دیں گی، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایران نے کبھی کسی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔