لنڈی کوتل گلاب گراؤنڈ کے قریب سے بھاری توپ خانے کا استعمال، افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

لنڈی کوتل گلاب گراؤنڈ کے قریب سے بھاری توپ خانے کا استعمال، افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

لنڈی کوتل کے علاقے میں گلاب گراؤنڈ کے قریب سے افغانستان کی جانب بھاری توپ خانے کے استعمال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغان طالبان کے ٹھکانوں پر توپوں سے نشانے کیے گئے، جس کے نتیجے میں بڑی تباہی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی توپ خانے نے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سرحدی علاقے میں شدید گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں ملٹری ٹھکانوں کے خلاف کارروائی ’انتہائی درست ‘، کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بی بی سی

دوسری جانب کنڑ اور ننگرہار، افغان طالبان آپس میں لڑے پڑے ،دوگروپوں میں جھڑ پیں جاری ہیں

افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں افغان طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق جھڑپوں کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے، جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، ٹی ٹی پی، گل بہارد اور جماعت الاحرار سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں اور بھارت کے ایما پر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔

  ذرائع کے مطابق، جھڑپوں میں ہتھیاروں کا تبادلہ ہو رہا ہے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پاکستان مخالف دھڑوں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں پاک فضائیہ نے ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں افغان طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں طالبان کے بعض گروہوں کے درمیان اختلافات کے باعث شروع ہوئیں اور بعد میں مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بعض گروہوں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں، ان میں تحریک طالبان پاکستان، گل بہادر گروپ اور جماعت الاحرار شامل بتائے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے دوران دونوں فریقین کے درمیان بھاری ہتھیاروں کا تبادلہ بھی ہوا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے باعث کئی علاقوں میں شہریوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

مزید ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف دھڑوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کے بعد پاکستان کی فضائیہ نے مبینہ طور پر ان گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کر دیا ہے۔ تاہم پاک فضائیہ یا سرکاری حکام کی جانب سے اس کارروائی کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ بھی کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان علاقوں میں مسلح دھڑوں کے درمیان تصادم خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *