پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد ٹھکانوں اور طالبان رجیم کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر حملوں کے جواب میں بھرپور فضائی کارروائی کی۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں دارالحکومت کابل سمیت متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی ‘انتہائی درستگی’ کے ساتھ کی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن(بی بی سی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ حملے اس اعلان کے بعد کیے گئے جب طالبان کی جانب سے پاکستانی فوجی پوسٹوں کے خلاف بڑے حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی میں مخصوص فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا۔
کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
بی بی سی کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں صوبہ قندھار اور صوبہ پکتیکا میں دھماکوں کے مناظر اور کابل کے اوپر ٹریسر فائر دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات تھیں اور کسی شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے کابل میں کم از کم دو مقامات، جبکہ قندھار اور گردیز میں بھی نقصان کے آثار ملے۔ انٹیلی جنس فرم مایار کے تجزیہ کاروں کے مطابق حملے زیادہ تر عسکری انفراسٹرکچر تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔
کابل میں کیا تباہ ہوا؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کابل میں 2 عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک بظاہر فوجی ہیڈکوارٹر یا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھا۔ بی بی سی کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمارت کے باہر کھڑی گاڑیاں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ حملے کے وقت یہ مقام فعال تھا اور ممکنہ طور پر طالبان یا وابستہ گروہوں کے زیرِ استعمال تھا۔
اسی طرح قندھار میں ایک بڑے کمپلیکس کے اندر کم از کم 2 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ جس کے بارے میں بی بی سی کی تجزیاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی ساخت اور حفاظتی انتظامات کو دیکھتے ہوئے امکان کم ہے کہ یہ اسلحہ ڈپو تھے، بلکہ زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ یہ انتظامی یا کمانڈ مراکز تھے۔
مایار کے تجزیہ کاروں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ نشانہ بنائے گئے بعض مقامات وہ سابق نیٹو تنصیبات ہو سکتی ہیں جو 2021 میں امریکا کے انخلا کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آ چکی تھیں۔
سوشل میڈیا پر افواہوں کا طوفان
بی بی سی کے مطابق کشیدگی کے اس ماحول میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے تیزی سے پھیلنے لگے۔ کچھ پوسٹس میں پاکستانی طیاروں کو مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم بی بی سی نے متعدد اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور پرانی ویڈیوز کی نشاندہی کرتے ہوئے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق تیزی سے بدلتی صورتحال میں درست معلومات تک رسائی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور اسی لیے ویریفکیشن یونٹس مسلسل مواد کی جانچ کر رہے ہیں۔
خطے پر ممکنہ اثرات
دفاعی اور سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کارروائی محدود نوعیت کی دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کے اثرات خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور حملوں کا جواب دینا تھا۔
بی بی سی ویریفائی کے مطابق وہ صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید شواہد سامنے آنے پر اپ ڈیٹس فراہم کرے گا۔ موجودہ حالات میں یہ واقعہ نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی جنوبی ایشیا کی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے۔