مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر پر مبینہ میزائل حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کے زخمی یا ہلاک ہونے کی غیر مصدقہ خبریں گردش کرنے لگیں۔ تاہم اب تک کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی ذرائع ابلاغ سے وابستہ دعوؤں میں کہا گیا کہ حملہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کیا گیا اور اس کا ہدف اسرائیلی وزیرِ اعظم کا سرکاری دفتر تھا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کا مقصد اعلیٰ سطح کے حکومتی مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیرِ اعظم محفوظ ہیں، البتہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا رہیں۔
حملے کی خبروں کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے فوری طور پر کوئی ویڈیو بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔ تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومتی دفاتر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہم سرکاری شخصیت کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے ایک سینئر رکن کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جسے اسرائیلی حکام نے اپنی عسکری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعات خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
عالمی برادری نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔