خلیجی ملکوں پر ایرانی حملے افسوسناک،پاکستان مذاکرات کا حامی ہے،اسحاق ڈار

خلیجی ملکوں پر ایرانی حملے افسوسناک،پاکستان مذاکرات کا حامی ہے،اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے خلیجی ممالک پر مبینہ حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کا حامی ہے اور تمام مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دیتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں سفیروں کو افغانستان اور ایران کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حالات انتہائی حساس ہیں اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا]انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت ہر ریاست کو دوسری ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے اور چاہتا ہے کہ تمام فریقین بات چیت کو اولین ترجیح دیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں] انہوں نے خلیجی ممالک پر حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے دفاعی نوعیت کے دعووں کے ساتھ سامنے آئے ہیں، تاہم پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ میں امن کے قیام کے لیے بھی پاکستان نے فعال کردار ادا کیا ہےاورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں چین، امریکا اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔

انہوں نے افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال انہوں نے افغانستان کے تین دورے کیے جن میں معیشت، تجارت اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں :یو اے ای نے 2 ارب ڈالر رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرا دی، اسحاق ڈار

انہوں نے ریل منصوبے کے ذریعے علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی تجویز پر بھی بات چیت کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ قطر کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کی گئی تھی تاہم اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جبکہ استنبول مذاکرات بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں آپریشن غضب للحق کے دوران دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی میں عام شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تمام مناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *