امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا اور اس کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جمعے کو ہونے والے مذاکرات خوش آئند رہے اور ایران اس بار سنجیدگی کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ڈیڑھ سال پہلے کے مقابلے میں اب عملی اقدامات کے لیے کہیں زیادہ تیار دکھائی دے رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور واشنگٹن کی اولین ترجیح یہی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن دائرے میں محدود رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو خطے اور دنیا کے لیے محفوظ ہو۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور عُمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کے روز منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں فریقین نے سفارتی ذرائع سے شرکت کی۔
اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاہم اگلے مرحلے سے قبل دونوں ممالک کے حکام اپنے اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کریں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری ہوگا کہ ایران یورینئم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری و پیداوار کو محدود کرے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔