ایران ہتھیار ڈالنے کے بہت قریب ہے،صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ایران ہتھیار ڈالنے کے بہت قریب ہے،صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے بہت قریب ہے تاہم انہوں نے جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ یا ڈیڈلائن نہیں دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت شدید دباؤ میں ہے اور اب وہاں شاید ہی کوئی ایسا اعلیٰ عہدیدار باقی رہ گیا ہو جو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرسکے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور کمرشل جہازوں کو دوبارہ اس راستے سے گزرنے کے لیے آپریشن شروع کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اجلاس میں شرکا کو یقین دلایا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا یوٹرن لے لیا، ایران پرمسلط جنگ ختم کرنے سے انکار

جی سیون رہنماؤں نے بھی صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ جلد از جلد ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جائے کیونکہ اس اہم سمندری گزرگاہ کی غیر محفوظ صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے باوجود صورتحال پر قابو پانے کے لیے امریکہ ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے تاکہ نہ صرف تیل کی سپلائی مستحکم رہے بلکہ عالمی تجارت بھی متاثر نہ ہو، انہوں نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی حاصل کی۔

یہ اجلاس اس وقت ہوا جب عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کو تیل کی اہم ترین سپلائی لائن قرار دیا جاتا ہے، جس کی حفاظت عالمی اقتصادی و سیاسی استحکام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *