یورپین ملک سویڈن کی حکومت نے ملک میں شہریت کے حصول کے لیے قوانین کو مزید سخت کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
مائیگریشن کے وزیر جوہان فورسل نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ نئی مجوزہ شرائط کے تحت شہریت حاصل کرنے والے افراد کو دینتدارانہ زندگی گزارنے، مالی ضروریات کو پورا کرنے، سویڈش زبان اور عمومی علم کے امتحانات پاس کرنے کی شرط پوری کرنی ہوگی۔
مزید برآں، نئی تجاویز میں سویڈن میں رہائش کی مدت کو موجودہ پانچ سال سے بڑھا کر آٹھ سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ درخواست دہندگان ملک کے معاشرتی اور قانونی نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ وزیر نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت سویڈش شہریت حاصل کرنا بہت آسان ہے اور اس کی شرائط اتنی کمزور ہیں کہ کوئی بھی شخص پانچ سال رہائش کے بعد بغیر زبان یا معاشرتی معلومات کے شہری بن سکتا ہے۔
وزیر نے میڈیا میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ قتل کے الزام میں حراست میں ہونے والے افراد بھی ایک دن شہری بن سکتے ہیں، جو کہ مکمل طور پر شہری حصول کے نظام کے لیے نقصان دہ پیغام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریت کا مطلب صرف رسمی تقاضوں کو پورا کرنا نہیں بلکہ معاشرتی اور قانونی ذمہ داریوں کو سمجھنا بھی ہونا چاہیے۔
اگر سویڈش پارلیمنٹ سے منظوری مل جاتی ہے تو نئے قوانین 6 جون کو سویڈن کی قومی تعطیل کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور یہ قوانین ان تمام درخواستوں پر بھی لاگو ہوں گے جو اس وقت زیر غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
نئے قوانین کے تحت وہ افراد جن کا مجرمانہ ریکارڈ ہے یا جنہوں نے اپنی سزا مکمل کی ہے، انہیں شہریت کے لیے درخواست دینے سے پہلے 17 سال تک انتظار کرنا ہوگا۔ یہ اقدام سویڈن کے شہری حصول کے نظام کو زیادہ سخت اور شفاف بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ صرف وہی لوگ شہریت حاصل کریں جو ملک کے قوانین اور معاشرتی اقدار کا احترام کرتے ہیں۔