پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول اہم مقابلے نے کرکٹ شائقین کا جوش عروج پر پہنچا دیا ہے، تاہم اس جوش و خروش نے فضائی سفر کو بھی غیر معمولی حد تک مہنگا بنا دیا ہے۔ 15 فروری کو R. Premadasa Stadium کولمبو میں ہونے والے میچ سے قبل بھارت سے سری لنکا جانے والی پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں سات ہزار سے پچیس ہزار بھارتی روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض پروازوں پر وہ ٹکٹ جو عام دنوں میں تقریباً سات ہزار روپے میں دستیاب تھی، اب چالیس سے بیالیس ہزار روپے تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
دہلی، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں سے کولمبو جانے والی پروازوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شائقین کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا کا رخ کر رہی ہے، جس کے باعث فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ چنئی سے کولمبو کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل ہے اور یہاں سے روزانہ متعدد پروازیں روانہ ہوتی ہیں، لیکن اس روٹ پر بھی ٹکٹوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری کو چنئی سے روانہ ہونے والی IndiGo کی معیشتی درجہ کی ٹکٹیں جو پہلے تقریباً سات ہزار روپے میں دستیاب تھیں، بڑھ کر بائیس سے پچیس ہزار روپے تک پہنچ گئیں اسی طرح SriLankan Airlines کی ٹکٹوں کی قیمت بیالیس ہزار روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔
14 فروری کی پروازوں میں بھی یہی رجحان برقرار رہا، جہاں انڈیگو کے کرایے بیس ہزار سے بڑھ کر پچیس ہزار روپے تک جبکہ سری لنکن ایئر لائنز کے کرایے پینتیس ہزار روپے سے زائد رہے۔ میچ کے روز یعنی 15 فروری کو بھی ٹکٹوں کی قیمتیں معمول سے کہیں زیادہ ہیں اور مختلف پروازوں میں یہ اٹھارہ ہزار سے بیالیس ہزار روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کولمبو جانے والی پروازوں کے کرایوں میں اضافہ بھارت کے دیگر شہروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں کرکٹ شائقین اس اہم مقابلے کو اسٹیڈیم میں براہ راست دیکھنے کے لیے کولمبو روانہ ہو رہے ہیں، جس سے طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت مقابلہ عالمی کرکٹ کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا میچ سمجھا جاتا ہے، اسی غیر معمولی دلچسپی کے باعث فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور کرایے بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ شائقین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے باوجود وہ اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کے لیے میدان میں موجود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔