بنوں، شہدا کی نمازِجنازہ میں عدم شرکت، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی بے حسی، عوام نے آڑے ہاتھوں لے لیا، شدید تنقید

بنوں، شہدا کی نمازِجنازہ میں عدم شرکت، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی بے حسی، عوام نے آڑے ہاتھوں لے لیا، شدید تنقید

بنوں میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والی خواتین اور معصوم بچوں کی نمازِ جنازہ میں صوبائی حکومت اور ارکانِ اسمبلی کی عدم شرکت پر شہریوں کا شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

بنوں کے عوام نے صوبائی حکومت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے رویے کو ‘بے حسی کا واضح ثبوت’ قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے گروہ ’اتحاد المجاہدین‘ نے قبول کرلی، سیکیورٹی ذرائع

شہریوں کا کہنا ہے کہ بنوں اس وقت دہرے عذاب کی زد میں ہے؛ ایک طرف فتنہ الخوارج کی دہشت گردی نے معصوم جانیں نگل لیں، تو دوسری طرف حالیہ طوفانی بارشوں نے گھروں کو تباہ کر دیا ہے جس کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

اس سنگین صورتحال کے باوجود وزیرِ اعلیٰ اور مقامی ارکانِ اسمبلی نے شہدا کے گھر جا کر تعزیت تو دور کی بات، اس حملے کی باضابطہ مذمت تک کرنا گوارا نہیں کی۔

نمازِ جنازہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’پنجاب پر چڑھائی کرنے اور جلسے جلوسوں کی باتیں بعد میں کی جائیں، سب سے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنوں آ کر حالات خود دیکھیں اور متاثرین کی دلجوئی کریں’۔ شہریوں کا الزام ہے کہ حکومت سیاسی جلسوں میں تو پیش پیش ہے لیکن جب بنوں کے عوام پر آفت ٹوٹی ہے تو کوئی پرسانِ حال نہیں۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کا دھرنا ناکام، وزیراعلیٰ کے پی سمیت مرکزی قیادت منظر سے غائب

 اپریل 2026 کے ان حالات میں بنوں میں بدامنی اور سیلاب کی صورتحال نے مقامی آبادی میں شدید مایوسی پھیلا دی ہے، اور حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔

بنوں حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات کا مرکز رہا ہے، جہاں فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں نے امن و امان کو تہہ و بالا کر رکھا ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے پہلے سے پریشان حال عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

سیاسی طور پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اس وقت وفاق اور پنجاب کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے صوبے کے پسماندہ اضلاع میں انتظامی توجہ کم ہونے کے الزامات شدت اختیار کر رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *