برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو مزید حملوں سے گریز کرنا چاہیے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
برطانوی وزیراعظم نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہو جائے تو مذاکرات کی میز پر واپسی ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحران کے حل کا واحد راستہ سفارت کاری ہے اور طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج اتحادی ممالک کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی ممالک کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فضائی نگرانی اور دفاعی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی افواج آج بھی فضاؤں میں اتحادیوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے ایران سے اپیل کی کہ وہ خطے میں مزید حملے روک دے اور فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازع کو فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ دیرپا امن کے لیے سفارتی حل اختیار کرنا ضروری ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے۔