اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران پر پیشگی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ہدف کیا تھا، لیکن یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے ’خطرات کو ختم کرنے کیلئے ‘ کیا گیا تاہم انہوں نے فوری طور پر اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران میں متعدد میزائل یونیورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پر گرےہیں ، اسرائیل نے شام کی فضائی حدود سے ہوتے ہوئے میزائلوں نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل بھر میں اسکول بند کردیے گئے ہیں۔
اس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔