سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے جنگ سے متعلق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے خلاف سخت اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال میں عوام کو مستند اور تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی اولین ترجیح ہے جبکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ایکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق جنگی مناظر، دھماکوں، فوجی کارروائیوں یا رہنماؤں کے بیانات پر مشتمل جعلی ویڈیوز نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ خوف اور اشتعال کو بھی ہوا دیتی ہیں۔ اسی لیے ایسے مواد کی نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔
ایکس انتظامیہ کے مطابق اگر کوئی صارف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کرے گا تو اسے واضح طور پر تحریری وضاحت دینا ہوگی کہ ویڈیو تخلیقی یا مصنوعی ہے۔ بغیر وضاحت یا حوالہ کے ایسی ویڈیوز شیئر کرنے کی صورت میں متعلقہ اکاؤنٹ کی آمدنی معطل کی جا سکتی ہے۔
پلیٹ فارم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس محدود یا معطل بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی نگرانی ٹیمیں اور خودکار نظام متحرک کر دیے گئے ہیں جو مشتبہ مواد کی فوری نشاندہی کریں گے۔
گمراہ کن مواد پر تشویش
ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں جھوٹی ویڈیوز تیزی سے پھیلتی ہیں اور بعض اوقات سرکاری وضاحت سے پہلے ہی لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس سے عوامی رائے متاثر ہو سکتی ہے اور سفارتی یا عسکری سطح پر بھی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایکس انتظامیہ کے مطابق پلیٹ فارم آزادی اظہار کا حامی ہے تاہم ہنگامی حالات میں ذمہ دارانہ طرز عمل ضروری ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سنسرشپ نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
دیگر پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ
ٹیکنالوجی مبصرین کے مطابق ایکس کے اس فیصلے کے بعد دیگر سماجی رابطہ پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد کے خلاف واضح پالیسی اختیار کریں۔ عالمی سطح پر حکومتیں پہلے ہی جعلی ویڈیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔