محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی اپنے ایک افسر پر مہربانی، مجبوری یا ضرورت؟ محکمہ کو اپنے ہی فیصلے پر یوٹرن کیوں لینا پڑا؟ چند ماہ قبل مذکورہ افسر کو سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے عہدے سے ہٹا کر گریڈ 19 میں ان کی ترقی کا اعلامیہ بھی واپس کردیا۔
گزشتہ ماہ انہیں ایڈجسٹ کرنے کیلئے قانونی تقاضوں اور پالیسی کے برعکس ایک عجیب و غریب اعلامیہ جاری کر دیا گیا،تیرہ فروری 2026 کو محکمہ تعلیم ابتدائی و ثانوی نے پشاور بورڈ کے افسر مہدی جان خان کی مردان بورڈ میں بطور سیکرٹری تعیناتی اور ان کی معطلی ختم کرنے کا اعلامیہ جاری کیا لیکن مذکورہ اعلامیہ میں افسر ہذا کا گریڈ شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین بورڈ کے پاس سیکرٹری اور کنٹرولر تعینات کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوتا لیکن اس اعلامیہ میں بورڈ کو سیکرٹری کے پوسٹ پر تعینات کرنے کا کہا گیا ہے،خیبرپختونخوا حکومت نے امتحانی بورڈز میں چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر کی پوسٹ پر تعیناتی کیلئے یکم ستمبر 2025 کو گزٹیڈ پالیسی متعارف کرائی جس کی ایک نقل عدالت میں بھی جمع کی گئی ہے، اس کے مطا بق سیکرٹری کی پوسٹ پر تعیناتی کیلئے اہل امیدوار وہ ہوں گے جن کو انکوائری کا سامنا نہ ہو، 56 سال سے عمر کم ہو، جبکہ سول سرونٹ اور ایک ہی سکیل میں ہوں کیونکہ سیکرٹری کی پوسٹ گریڈ 19 کی ہے۔
خیبرپختونخوا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ 1990 کے سیکشن 15(2) کے مطابق امتحانی بورڈ میں چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر کی آسامیوں پر تعیناتی تین سال کیلئے صرف تبادلے کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ اس میں توسیع بھی ممکن ہے، جبکہ بورڈ کے اپنے ملازمین ان آسامیوں پر براہِ راست تعینات ہی نہیں ہو سکتے۔مہدی جان نہ سول سرونٹ ہیں نہ گریڈ 19 میں اور انڈر انکوائری بھی ہیں تاہم چار شرائط میں سے تین پر وہ پورا نہیں اترتے۔
موجود دستاویزات کے مطابق 2008 میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں اسسٹنٹ سیکرٹری (گریڈ 17) کی پوسٹ پر مہدی جان کی تقرری عارضی بنیادوں پر کی گئی اور سول سرونٹ ریگولرائزیشن ایکٹ 2009 کے تحت ان کی مستقلی انجام پائی حالانکہ یہ ایکٹ سول سرونٹس کیلئے ہے اور بورڈ ملازمین درحقیقت پبلک سرونٹس ہوتے ہیں۔
دوہزار سولہ کو مہدی جان نے بورڈ کی پروموشن کمیٹی کو ترقی کیلئے درخواست دی تو وہ بورڈ آف گورنرز کو ارسال کی گئی۔ بی او جی نے کیس وزیرِ اعلیٰ کو بھیجنے کی سفارش کی، جس کا ذکر بورڈ میٹنگ کے منٹس میں بھی موجود ہے۔ درایں اثناء، اسے گریڈ 18 میں ترقی مل بھی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایک ہی میٹنگ کے دو مختلف منٹس موجود ہیں۔
پشاور بورڈ کے سابق سیکرٹری بشیر، جو وفاقی حکومت کے ملازم تھے، ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد جب واپس اپنے محکمہ گئے تو سیکرٹری کی خالی آسامی پر مہدی جان کو پہلے لُک آفٹر چارج اور بعد ازاں اضافی چارج دے دیا گیا۔ 2021 میں وہ پشاور بورڈ ہی میں ڈیپوٹیشن کی بنیاد پرسیکرٹری تعینات ہوئے۔ یہ ڈیپوٹیشن نومبر 2024 میں ختم ہو چکی تھی۔
نگران حکومت کے دور میں مہدی جان نے گریڈ 19 میں ترقی کے لیے اپنا کیس تیار کر لیا اور اس ضمن میں براہِ راست وزیرِ اعلیٰ کو درخواست دی جو واپس محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو بھیجی گئی۔ تاہم حیران کن طور پر اس وقت کے سیکرٹری تعلیم معتصم باللہ نے محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور چیف سیکرٹری آفس کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست وزیرِ اعلیٰ کے لیے نوٹ تیار کیا جسے نگران وزیرِ اعلیٰ نے جنوری 2024 میں منظور کر لیا، یوں مہدی جان گریڈ 19 میں سیکرٹری کی پوسٹ پر ترقی پا گئے۔
دسمبر 2025 میں حکومت نے مہدی جان کو سیکرٹری کی پوسٹ سے ہٹا کر بورڈ رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ اور بورڈ کو مہدی جان کی گریڈ 19 میں ترقی کا علم تب ہی ہوا جب اس نے مذکورہ تبادلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کی مستقل بنیادوں پر گریڈ 19 میں سیکرٹری کی پوسٹ پر ترقی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہی محکمہ نے ترقی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے کر دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
تاہم مہدی جان کا موقف ہے کہ اس کی تقرری، ترقی اور سیکرٹری کی پوسٹ پر تعیناتی سب قواعد و ضوابط کے تحت ہوئی ہے جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بھی مہدی جان کی تعیناتی کی مخالفت 29 جنوری 2026 کو کی ہے اور حکومت کو ارسال کردہ لیٹر میں کہا گیا ہے کہ ان کی تعیناتی غیر قانونی، قانون کے تحت ناقابل دفاع سمیت عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔اس بابت سیکرٹری تعلیم خالد خان کا موقف جاننے کیلئے انہیں سوالات ارسال کئے لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔