ارشد ندیم کا ’کامن ویلتھ گیمز‘ کے اعزاز سے متعلق بڑا اعلان

ارشد ندیم کا ’کامن ویلتھ گیمز‘ کے اعزاز سے متعلق بڑا اعلان

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ جیولین تھرور اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے آنے والے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔

لاہور میں جاری اپنی ٹریننگ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے چند ماہ ان کے کیریئر اور پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن میں وہ کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ارشد ندیم کے لیے بڑا اعزاز، دبئی میں ایتھلیٹس آف دی ایئر قرار

ارشد ندیم نے اپنی فٹنس کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت مکمل طور پر فٹ ہیں اور اپنی تمام تر توجہ ٹریننگ اور تکنیک کو بہتر بنانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ قطر میں شیڈول ’ڈائمنڈ لیگ‘ جو کہ پہلے مئی میں ہونا تھی، خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث اب ملتوی ہو کر جون میں کھیلی جائے گی۔ ارشد ندیم کے مطابق ایونٹ میں ایک ماہ کی تاخیر ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے کیونکہ اب انہیں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔

قومی ہیرو نے اپنے مستقبل کے مصروف شیڈول کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جولائی میں کامن ویلتھ گیمز کے بعد وہ ڈائمنڈ لیگز، ورلڈ ایتھلیٹکس الٹیمیٹ چیمپئن شپ اور بالآخر ایشین گیمز میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے پوری قوم سے دعاؤں کی درخواست کی تاکہ وہ فٹ رہ کر ایک بار پھر عالمی سطح پر سبز ہلالی پرچم بلند کر سکیں۔ 18 اپریل 2026 کو دی گئی اس بریفنگ سے شائقینِ کھیل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ پاکستان کا یہ سپوت ایک بار پھر میدانِ عمل میں متحرک ہے۔

مزید پڑھیں:اسلامک یکجہتی گیمز میں پاکستان کے ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت لیا

ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کر کے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ نیا اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیا، جس کے بعد وہ پاکستان کے مقبول ترین کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔

ماضی میں وہ کہنی اور گھٹنے کی انجری کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شرکت پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہے تھے، تاہم حالیہ بیان سے ان کی مکمل صحت یابی کی تصدیق ہو گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بحری ناکہ بندی اور کشیدگی نے جہاں عالمی تجارت کو متاثر کیا، وہیں اس کے اثرات کھیلوں پر بھی پڑے ہیں، جس کی ایک مثال قطر ڈائمنڈ لیگ کا التوا ہے۔ ارشد ندیم کی نظریں اب 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں جیتے گئے گولڈ میڈل کے دفاع پر جمی ہوئی ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *