فلکیاتی ماہرین نے رمضان المبارک 2026 کے آغاز کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی دنیا میں ایک بار پھر روزے کے آغاز پر اختلاف کا امکان موجود ہے، تاہم اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ رمضان کا مہینہ 29 دن پر مشتمل ہوگا۔ فلکیاتی حسابات اور جدید سائنسی ڈیٹا کے مطابق مختلف ممالک میں چاند نظر آنے کے امکانات جغرافیائی محلِ وقوع اور چاند دیکھنے کے طریقہ کار کی وجہ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرینکا کہنا ہے کہ کچھ اسلامی ممالک میں پہلا روزہ منگل 18 فروری 2026 کو رکھا جا سکتا ہے، جبکہ بعض ممالک میں رمضان المبارک کا آغاز بدھ 19 فروری 2026 سے ہونے کا امکان ہے۔ اس ممکنہ اختلاف کی بنیادی وجہ چاند کی پیدائش کا وقت اور اس کے بعد چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔
عرب یونین برائے فلکیات و خلائی سائنسز کے رکن اور امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے چاند کی پیدائش منگل 17 فروری 2026 کو ہوگی۔
ان کے مطابق یہ پیدائش پاکستانی وقت کے مطابق شام کے وقت متوقع ہے، تاہم چاند کی پیدائش کے فوراً بعد سورج غروب ہو جائے گا، جس کی وجہ سے اسی روز انسانی آنکھ سے چاند دیکھنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
ابراہیم الجروان کا کہنا تھا کہ سائنسی اور فلکیاتی شواہد کے مطابق بدھ 18 فروری کی شام چاند واضح طور پر نظر آنے کے امکانات زیادہ ہیں[ایسی صورت میں زیادہ تر ممالک میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ جمعرات 19 فروری کو رکھا جائے گا تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض ممالک میں روایتی رویتِ ہلال کے طریقہ کار کے باعث ایک دن پہلے روزہ رکھنے کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین فلکیات کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک 2026 کے مہینے کے 29 دن ہونے کا امکان زیادہ ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ رمضان کے آغاز میں اختلاف سامنے آ سکتا ہے، لیکن اختتام پر زیادہ تر اسلامی ممالک میں اتفاقِ رائے پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق عید الفطر کے موقع پر چاند کی پوزیشن ایسی ہوگی کہ بیشتر ممالک میں چاند ایک ہی دن نظر آنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں عید الفطر بروز جمعہ 20 مارچ 2026 کو منائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
فلکیاتی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ پیشگوئیاں سائنسی حسابات پر مبنی ہیں، جبکہ حتمی اعلان ہر ملک میں متعلقہ رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی اس کے باوجود ان پیشگوئیوں سے رمضان اور عید کے ممکنہ دنوں کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔