زرعی ترقی کا نیا ماڈل سامنے آگیا،40 سے زائد گرین ایگری مالز فعال

زرعی ترقی کا نیا ماڈل سامنے آگیا،40 سے زائد گرین ایگری مالز فعال

گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت قائم کیے گئے گرین ایگری مالز ملک میں زرعی ترقی اور کسانوں کی سہولت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں جدید زرعی سہولت کاری کے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے مراکز زرعی شعبے کی بہتری کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

گرین ایگری مالز کے ذریعے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری کھادیں، زرعی ادویات اور دیگر ضروری اشیاء ایک ہی جگہ پر دستیاب ہو رہی ہیں جس سے زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ مراکز گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت کسانوں کو بروقت رہنمائی اور ضروری وسائل فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

گرین ایگری مال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی سفیان کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 40 سے زائد سائٹس فعال ہیں اور منصوبہ ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ان کی تعداد 100 سے تجاوز کر جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین ایگری مال کا مقصد تمام زرعی اسٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے اکٹھا کرنا ہے تاکہ کسانوں کو درکار سہولیات آسانی سے فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرین ایگری مال کے پورٹ فولیو میں کھادیں، کیڑے مار ادویات، ٹریکٹرز، جدید زرعی مشینری اور بینکنگ سہولیات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کا بنیادی ہدف کسانوں کو معیاری مصنوعات اور خدمات مناسب قیمتوں پر بروقت فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے دیا گیا،فیصلوں پر کڑی تنقید

دوسری جانب گرین ایگری مال کے سینئر سیلز آفیسر ڈاکٹر تیمور قریشی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کسانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے کھادوں اور دیگر زرعی وسائل کے مؤثر استعمال کے بارے میں آگاہی دی جا رہی ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

مقامی کسانوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گرین ایگری مالز کے ذریعے ادویات، کھاد اور زرعی مشینری مناسب قیمتوں پر بروقت دستیاب ہو رہی ہے جس سے انہیں اپنے کھیتوں کے کام میں آسانی ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت کیے جانے والے اقدامات زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی فلاح اور دیہی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *