ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات، سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات، سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری

ریاستی اداروں کے خلاف  گمراہ کن  مواد پھیلانے کے مقدمے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ وارنٹ اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جانب سے اس وقت جاری کیے گئے جب ملزم مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے سینیئر سول جج عباس شاہ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عدالتی احکامات کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ ملزم کی مسلسل عدم حاضری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے 21 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا ہے، جو ملک میں سائبر جرائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ این سی سی آئی اے نے سہیل آفریدی کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ایسا مواد پھیلایا جس سے ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں :نادرا نے بھی ‏9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق کر دی

عدالتی ریکارڈ کے مطابق استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے بیانات یا مواد نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ قومی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیس عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعتوں کے دوران ملزم کو پیش ہونے کے مواقع فراہم کیے، تاہم عدم حاضری کے باعث سخت قدم اٹھانا ناگزیر سمجھا گیا

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *