عینی شاہد ہوں، افغانستان میں منشیات کے بحالی سینٹر کو طالبان نے خود آگ لگائی، نوجوان افغان صحافی احمد شریف زاد

عینی شاہد ہوں، افغانستان میں منشیات کے بحالی سینٹر کو طالبان نے خود آگ لگائی، نوجوان افغان صحافی احمد شریف زاد

افغانستان کے نوجوان صحافی احمد شریف زاد نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ افغانستان میں ’منشیات کے بحالی سینٹر‘ کو طالبان نے خود آگ لگائی ہے۔

افغانستان میں’منشیات کے بحالی سینٹر‘ سے متعلق افغان طالبان کے دعوے مزید جھوٹے ثابت ہو گئے ہیں، جہاں ایک نوجوان افغان صحافی احمد شریف زاد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ اس مرکز کو طالبان نے خود آگ لگائی یہاں پر منشیات کے عادی افراد کو پہلے ہی کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی مرکز کے نام پر طالبان رجیم کا خطرناک کھیل؟ چونکا دینے والے انکشافات

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں احمد شریف زاد نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں نے طالبان کی وزارت دفاع اور اس کے پریکیورمنٹ ڈائریکٹوریٹ، جو سابق امریکی ’فونکس کیمپ‘ بھی رہا ہے، کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ حملہ ایک مخصوص عسکری ہدف پر کیا گیا تھا اور اس کا تعلق کسی بحالی مرکز سے نہیں تھا۔

صحافی نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان نے منشیات کے عادی تقریباً 400 عادی افراد کو پہلے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد متعلقہ کیمپ کو آگ لگا دی گئی۔ ان کے مطابق بعد میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ افراد حملے میں ہلاک ہو گئے، تاہم ان کی لاشوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نہ تو کسی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے شواہد سامنے آئے اور نہ ہی پاکستان کے جیٹ طیاروں کا ہدف منشیات کے عادی افراد کا کوئی بحالی مرکز تھا۔ ان کے بقول یہ افراد اب بھی کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہیں، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے طالبان حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس سے قبل طالبان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مبینہ بحالی مرکز کو حملے میں نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ اس نوعیت کے متضاد دعوے خطے میں منفی پروپیگنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں، اگر 400 افراد کی منتقلی اور ان کی گمشدگی کے دعوے درست ہیں تو یہ ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ بن سکتا ہے، جس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

یاد رہے کہ ایسے واقعات میں زمینی حقائق تک رسائی مشکل ہونے کے باعث تصدیق شدہ معلومات کا حصول ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، اس لیے عالمی برادری اور آزاد مبصرین کو اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

واقعے نے نہ صرف طالبان کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی اور معلوماتی جنگ کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں ہر نئے دعوے کے ساتھ صورتحال مزید غیر واضح ہوتی جا رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *