افغانستان کے نوجوان صحافی احمد شریف زاد نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ افغانستان میں ’منشیات کے بحالی سینٹر‘ کو طالبان نے خود آگ لگائی ہے۔
افغانستان میں’منشیات کے بحالی سینٹر‘ سے متعلق افغان طالبان کے دعوے مزید جھوٹے ثابت ہو گئے ہیں، جہاں ایک نوجوان افغان صحافی احمد شریف زاد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ اس مرکز کو طالبان نے خود آگ لگائی یہاں پر منشیات کے عادی افراد کو پہلے ہی کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی مرکز کے نام پر طالبان رجیم کا خطرناک کھیل؟ چونکا دینے والے انکشافات
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں احمد شریف زاد نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں نے طالبان کی وزارت دفاع اور اس کے پریکیورمنٹ ڈائریکٹوریٹ، جو سابق امریکی ’فونکس کیمپ‘ بھی رہا ہے، کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ حملہ ایک مخصوص عسکری ہدف پر کیا گیا تھا اور اس کا تعلق کسی بحالی مرکز سے نہیں تھا۔
An eyewitness from Kabul:
Pakistani jets bombed the Air Force of the Taliban’s MoD and the Procurement Directorate of the Tainan’s MoD (former U.S. Phoenix Camp). We saw it with our own eyes.
The addicts rehabilitation camp was set on fire by the Taliban themselves. pic.twitter.com/SvBJoECjDE— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) March 17, 2026
صحافی نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان نے منشیات کے عادی تقریباً 400 عادی افراد کو پہلے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد متعلقہ کیمپ کو آگ لگا دی گئی۔ ان کے مطابق بعد میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ افراد حملے میں ہلاک ہو گئے، تاہم ان کی لاشوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
The Taliban moved around 400 addicts to an unknown location before burning the camp, later claiming they were killed & their bodies vanished.
However, no trace of such casualties exists nor the target was addicts camps; they r just transferred to an unknown location.— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) March 17, 2026

