امریکا کے 4 صدور نے ایران پر حملے کی نیتن یاہو کی درخواست پر کیا ردعمل دیا؟ وائٹ ہاؤس کے سابق چیف نے بڑے انکشافات کردیے

امریکا کے 4 صدور نے ایران پر حملے کی نیتن یاہو کی درخواست پر کیا ردعمل دیا؟ وائٹ ہاؤس کے سابق چیف نے بڑے انکشافات کردیے

سابق وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف راہم ایمینوئل نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہر امریکی صدر سے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کرنے کی باقاعدہ درخواست کی تھی، تاہم ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

راہم ایمینوئل کے مطابق بل کلنٹن، جارج بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن سمیت تمام صدور نے ان درخواستوں پر غور کیا لیکن ایران کے خلاف جنگ کے خطرات کا جائزہ لینے کے بعد اسے امریکی قومی مفاد کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے میزائل حملوں کا خوف، اسرائیلی قیادت کا تل ابیب خالی کرنے کا منصوبہ، یونانی جزائر پر منتقل ہونے کی تجویز زیر غور

سابق وائٹ ہاؤس چیف نے واضح کیا کہ ہر امریکی صدر نے صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑنا امریکا کے لیے سود مند نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانا امریکی صدر کی آئینی ذمہ داریوں کے منافی ہے، کیونکہ امریکا کا نظام یہ ہے کہ منتخب صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور وہی ملک کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے۔

فوجیوں کی جانوں کا حتمی فیصلہ کرنا صرف صدر کا اختیار ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ میں آکر اپنے جوانوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔

راہم ایمینوئل نے جنگ کے انسانی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ اب 2 بچوں کے ایک ایسے باپ کی مثال سامنے ہے جس کے 7 ماہ کے جڑواں بچے اپنے والد کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے اور ان کے گھر میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہے گی۔

مزید پڑھیں:بھارت، افغانستان اور اسرائیل کا پاکستان مخالف خفیہ منصوبہ بے نقاب ،سابق بھارتی کرنل کے ہوشربا انکشافات

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام فیصلے خالصتاً صدر کے ہوتے ہیں اور اس کے لیے کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانا بالکل بے معنی ہے۔ 2026 کے ان نازک حالات میں جب مشرقِ وسطٰی میں کشیدگی عروج پر ہے، راہم ایمینوئل کے اس بیان نے امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *