مشرقِ وسطٰی کی جنگ میں اسرائیل کی یکطرفہ حمایت اور مودی سرکار کی اسٹرٹیجک غلطیوں نے بھارتی کسانوں کو ایک سنگین معاشی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
برطانوی جریدے ’دی گارڈین‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے بھارتی معیشت، خاص طور پر زرعی شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جس کی بنیادی وجہ مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیاں ہیں۔
‘دی گارڈین’ کے مطابق ایران میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی آمد و رفت کے تعطل کی وجہ سے بھارتی کسان اس وقت شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ بھارت کو اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ کھاد کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سالانہ 6 کروڑ ٹن سے زیادہ کھاد استعمال کرتا ہے، جس کے خام مال کی درآمد کے لیے وہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ اس اہم راستے کی بندش نے بھارت کی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔
بھارتی پنجاب کے ایک کسان گروِندر سنگھ نے ’دی گارڈین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے دہائی دی ہے کہ ایران کی جنگ اب ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کھاد اور سستے ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث اس بار چاول کی فصل کی پیداوار بری طرح متاثر ہوگی، جس سے کسانوں کا معاشی قتلِ عام ہوگا۔
واضح رہے کہ مودی سرکار کے ’آتم نربھر بھارت‘ (خود انحصار بھارت) کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ ملک اب بھی اپنی بنیادی زرعی ضروریات کے لیے بیرونی ترسیل کا محتاج ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق بھارتی کسان پہلے ہی امریکا کے ساتھ کیے گئے حالیہ زرعی معاہدوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے، اور اب کھاد کے اس نئے بحران نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کے باعث بھارت میں پیدا ہونے والا گیس، پیٹرول اور کھاد کا بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت عالمی تنازعات کے پیشِ نظر اپنے داخلی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ اپریل 2026 کے ان حالات میں بھارتی زراعت کی صورتحال ایک بڑے انسانی اور معاشی المیے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
بھارت اپنی کھاد کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مودی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ گہرے دفاعی اور سفارتی تعلقات استوار کیے، جس کے باعث ایران اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تجارتی توازن بگڑنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف توانائی بلکہ فوڈ سیکیورٹی کو بھی براہِ راست متاثر کیا ہے، جو بھارت جیسے زرعی ملک کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔